Web Analytics Made Easy - Statcounter

تہران، ارنا - ایرانی صدر مملکت نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی موجودگی سے تباہی اور قتل و غارت کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور اس سے افغانستان یا خطے کو تحفظ فراہم نہیں ہوا۔

یہ بات علامہ سید ابراہیم رئیسی نے پیر کے روز تہران میں لٹویا کے نئے سفیر پتریس وایواراس کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر وایواراس نے صدر رئیسی کو اپنی اسناد تقرری پیش کی۔

صدر رئیسی نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی موجودگی سے تباہی اور قتل و غارت کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور اس سے افغانستان یا خطے کو تحفظ فراہم نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرتا ہے جو دنیا کو یکطرفہ اور جنگ کی طرف لے جائے۔

صدر رئیسی نے کہا کہ یوکرین میں جنگ اور جھڑپیں ہمیں افغانستان کے بحران اور اس کی قوم اور مہاجرین کی بڑی آبادی کے مسائل پر توجہ دینے سے نہیں روک سکتیں۔

ویوارس نے ایران اور لٹویا کے درمیان دیرینہ تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لٹویا اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ باہمی مفاہمت اور دوستی کی بنیاد پر تعلقات کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ دونوں ممالک کے مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

تہران اور یریوان کے درمیان دوستانہ، دیرپا تعلقات کی ترقی کے متعدد امکانات موجود ہیں

ایرانی صدر نے جمہوریہ آرمینیا کے نئے سفیر آرسن آواکیان کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہمیشہ اچھی ہمسائیگی کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔

اس موقع پر آواکیان نے صدر رئیسی کو اپنی اسناد تقرری پیش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران اور یریوان کے درمیان دوستانہ، دیرپا تعلقات کی ترقی کے متعدد امکانات موجود ہیں۔

صدر مملکت نے کسی بھی جارحیت کی مخالفت میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مضبوط پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس چیز نے آج ایران کو دنیا کے دیگر ممالک سے ممتاز کیا ہے وہ امریکی اور تسلط پسند ممالک کی جارحیت کے مقابلے میں ایران کا اصولی موقف ہے۔

صدر رئیسی نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ قومی خودمختاری کے حق اور ملکوں کی ارضی سالمیت کے احترام کی حمایت کی ہے۔

جمہوریہ آرمینیا کے نئے سفیر نے نوٹ کیا کہ آرمینیا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی سطح کو اسٹریٹجک تعلقات کی سطح تک بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

 

باہمی مفادات کو یقینی بنانے کے لیے ممالک کے ساتھ تعلقات ایرانی سفارت کاری کے اصولوں میں سے ایک ہے

صدر مملکت نے برونڈی کے نئے سفیر ژرار بیکه باکو کے ساتھ ایک ملاقات ميں کہا کہ مختلف ممالک کے ساتھ منصفانہ تعلقات کے فروغ کو اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کی بنیاد قرار دیا کہا کہ ہم باہمی مفادات کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھاتے ہیں اور یہ ایرانی سفارت کاری کا ایک اہم محور ہے۔

اس موقع پر باکو نے صدر رئیسی کو اپنی اسناد تقرری پیش کی۔

انہوں نے تہران اور گیتگا کے درمیان تعلقات کی توسیع پر زور دیا اور کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی کے مطابق، ایران کی خارجہ پالیسی کی بنیاد پر، ہم باہمی فائدے فراہم کرنے کے لیے موجودہ صلاحیتوں کا ادراک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ مغربی ممالک واضح طور پر کہتے ہیں کہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں وہ صرف اپنے یک طرفہ مفادات کی پیروی کرتے ہیں۔

جمہوریہ برونڈی کے سفیر نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ گیتگا ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کی اعلیٰ ترین سطح کو بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے اور گزشتہ دو سالوں میں کورونا کی وبا کی وجہ سے ہونے والی تاخیر کی تلافی کے لیے اپنی کوششوں کو دوگنا کر رہا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے.

بیشتر بخوانید: اخباری که در وبسایت منتشر نمی‌شوند!

IrnaUrdu@

  منبع: خبرگزاری ایرنا برچسب ها: ژرار بیکه باکو ، پتریس وایواراس ، لٹویا

منبع: ایران اکونومیست

کلیدواژه: صدر رئیسی کے درمیان کی بنیاد ایران کی

درخواست حذف خبر:

«خبربان» یک خبرخوان هوشمند و خودکار است و این خبر را به‌طور اتوماتیک از وبسایت iraneconomist.com دریافت کرده‌است، لذا منبع این خبر، وبسایت «ایران اکونومیست» بوده و سایت «خبربان» مسئولیتی در قبال محتوای آن ندارد. چنانچه درخواست حذف این خبر را دارید، کد ۳۴۸۷۲۴۳۹ را به همراه موضوع به شماره ۱۰۰۰۱۵۷۰ پیامک فرمایید. لطفاً در صورتی‌که در مورد این خبر، نظر یا سئوالی دارید، با منبع خبر (اینجا) ارتباط برقرار نمایید.

با استناد به ماده ۷۴ قانون تجارت الکترونیک مصوب ۱۳۸۲/۱۰/۱۷ مجلس شورای اسلامی و با عنایت به اینکه سایت «خبربان» مصداق بستر مبادلات الکترونیکی متنی، صوتی و تصویر است، مسئولیت نقض حقوق تصریح شده مولفان در قانون فوق از قبیل تکثیر، اجرا و توزیع و یا هر گونه محتوی خلاف قوانین کشور ایران بر عهده منبع خبر و کاربران است.

خبر بعدی:

عبور محموله تجاری ریلی افغانستان به مقصد ترکیه از ایستگاه راه آهن تهران

تین نیوز

راه آهن جمهوری اسلامی ایران با اعلام عبور محموله تجاری ریلی افغانستان به مقصد ترکیه از ایستگاه راه آهن تهران، برای حمل محموله تجاری بعدی پس از کسب مجوزات لازم از سوی مراجع ذی ربط از جمله مرزبانی و گمرک، اعلام آمادگی کرد.

به گزارش تین نیوز به نقل از ایسنا، روابط عمومی راه آهن جمهوری اسلامی ایران اعلام کرد:

«با وجود عدم اخذ مجوزات لازم و عدم هماهنگی با راه آهن جمهوری اسلامی ایران، ۱۰ واگن محموله صادراتی کشور افغانستان به ترکیه که لوکوموتیو آن توسط مجموعه موسوم به کنسرسیوم جدا شد و در مرز شمتیغ رها شده بود، روز پنجشنبه ۱۳ اردیبهشت، توسط راه آهن جمهوری اسلامی ایران و با همراهی مرزبانی کشور به سمت مرز رازی در غرب کشور حمل شد.

همچنین راه آهن جمهوری اسلامی ایران آمادگی خود را جهت حمل قطار دوم محموله تجاری پس از انجام تشریفات گمرکی و مرزبانی توسط صاحبان بار و شرکت فورواردر اعلام می کند.

در پی اطلاع رسانی های گذشته تاکید می شود متاسفانه مجموعه موسوم به کنسرسیوم توسعه ریلی افغانستان، بدون طی روال قانونی اعم از اخذ مجوزات مرزبانی و گمرک و همچنین عدم اخذ مجوز از راه آهن جمهوری اسلامی ایران به عنوان متولی حمل و نقل ریلی کشور، اقدام به ارسال تعدادی واگن با محموله تجاری به مرز شمتیغ و سپس رها کردن این ۱۰ واگن در شمتیغ کرده و تلاش کرد با فشارهای رسانه ای و توسل به برخی ادعاهای بعضا کذب، نسبت به عبور این بار از مسیر ریلی جمهوری اسلامی ایران اقدام کند.

در این راستا راه آهن جمهوری اسلامی ایران به رغم ناپختگی و بی صداقتی صورت گرفته از سوی کنسرسیوم، با لحاظ کردن مصالح ملی و با حسن نیت، حمل بخش اول محموله تجاری را روز پنجشنبه ۱۳ اردیبهشت آغاز کرد و این محموله روز گذشته (شنبه ۱۵ اردیبهشت) از تهران نیز عبور کرده و اکنون در مسیر مرز رازی واقع در شمال غرب کشور است. همچنین راه آهن جمهوری اسلامی ایران آمادگی خود جهت حمل محموله تجاری بعدی را پس از کسب مجوزات لازم از سوی مراجع ذی ربط از جمله مرزبانی و گمرک اعلام می دارد.

راه آهن جمهوری اسلامی ایران تاکید می کند برقراری خط دائمی تبادلات تجاری ریلی با کشور افغانستان به ایران مستلزم انجام اصلاحات لازم روی خطوط ریلی افغانستان جهت رسیدن به استانداردهای مورد نیاز و همچنین انجام روال اداری و تشریفات قانونی لازم شامل اخذ مجوزهای مربوطه از مرزبانی، گمرک و راه آهن توسط فورواردرها خواهد بود.

راه آهن جمهوری اسلامی ایران در راستای سیاست دولت سیزدهم مبنی بر توسعه ارتباط با همسایگان، ضمن تاکید مجدد بر تمایل خود برای گسترش هرچه بیشتر حمل ریلی محموله های تجاری کشور افغانستان به صورت صادرات، واردات یا ترانزیت آمادگی خود جهت کمک به بهسازی و بازسازی خطوط مربوطه و تسریع در برقراری مبادلات تجاری ریلی میان دو کشور ایران و افغانستان را اعلام می دارد.»

 

در روزهای گذشته اخباری مبنی بر ورود و توقف اولین قطار ترانزیتی افغانستان ترکیه به خاک ایران منتشر شد. پس از آن راه آهن جمهوری اسلامی ایران اعلام کرد با توجه به رویکرد توسعه ای در حوزه کریدورهای بین المللی ریلی، اقدامات لازم جهت اعزام آزمایشی اولین قطار ترانزیتی از افغانستان به ترکیه انجام گرفت.

با وجود این هفته گذشته، جواد طاهرافشار معاون کنسرسیوم توسعه ریلی افغانستان در پاسخ به اینکه در صورت رفع مشکلات و انجام شدن تشریفات گمرکی، چرا همچنان بار متوقف است، گفته بود: تا زمانی که به ما اجازه ندهند لکوموتیومان به واگن متصل شود، یعنی مشکل هنوز حل نشده است.

آخرین اخبار حمل و نقل را در پربیننده ترین شبکه خبری این حوزه بخوانید

دیگر خبرها

  • بارگیری غیراستاندارد محموله افغانستان توسط کنسرسیوم ریلی+عکس
  • محموله تجاری ریلی افغانستان به مقصد ترکیه از ایستگاه راه‌آهن تهران عبور کرد
  • عبور محموله تجاری ریلی افغانستان به مقصد ترکیه از ایستگاه تهران
  • ۱۰ واگن جدا شده محموله های ترانزیتی افغانستان به مرز رازی رسید
  • ماجرای صعود به جام جهانی با آهنگ صادق بوقی!
  • ۴۷ میلیون افغانستانی را خوشحال کردیم | اینفانتینو هم از صعود افغانستان به جام جهانی هیجان‌زده بود
  • اعتراف روزنامه غربگرا: ایران  سه بر صفر از آمریکا جلو است
  • عبور محموله تجاری ریلی افغانستان به مقصد ترکیه از ایستگاه راه آهن تهران
  • حمله گازانبری طالبان به تعهدات آبی با ایران
  • بار ترانزیتی افغانستان به ترکیه از تهران گذشت/ آمادگی راه‌آهن برای حمل محموله‌های بعدی